کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے
ہم اور جاتے بزمِ عدو میں؟ مگر گئے
یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے
لیکن یہاں سے دُور کچھ اہلِ سفر گئے
ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں
پیری میں وہ، خدا کو...
Written by محمد وارث
on صریرِ خامۂ وارث
1 day 12 hours ago